حقیقی سلفیوں سے دردمندانہ اپیل محی الدین غازی

میرے عزیزو
آپ کتنا مضبوط موقف رکھتے تھے جب امام احمد اور امام ابن تیمیہ، شاہ ولی اللہ اور محمد بن عبدالوھاب، شیخ بن باز اور شیخ البانی کے طرف دار اور ان کی فکر کے علم بردار نظر آتے تھے۔۔۔
آپ کتنے ممتاز تھے جب سلف کے عقیدے اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی طرف بلاتے تھے۔۔۔
لیکن اب کچھ بدقماش اور ناسمجھ لوگ سلفیت کی ایک نہایت گندی تصویر پیش کررہے ہیں۔۔۔سلفیت کا مطلب محمد بن سلمان محمد بن زاید اور سیسی کی حمایت کرنا ظاہر کیا جارہا ہے۔۔۔
آپ کو اتنے نیچے گرنے کی کیا ضرورت پیش آگئی۔۔۔آپ سوچیں ان مجرموں کے کتنے جرائم آپ سلفیت کے پاک دامن پر چپکائیں گے۔۔۔
سلفی بزرگو۔۔۔اسلامی تحریکوں کا ان شرپسندوں کی گالیوں اور تہمتوں سے کچھ نہیں بگڑے گا۔۔۔ان کی تو پوری تاریخ گالیوں اور تہمتوں کا سامنا کرتے ہوئے گزری ہے۔۔سو آپ کی گالیاں اور تہمتیں بھی سن لیں گے۔۔۔
لیکن سوچو ۔۔۔سلفیت کا کیا ہوگا۔۔۔۔اتنا کمزور گیم کیوں کھیل رہے ہو۔۔۔۔کیا تم چاہتے ہو۔۔۔امت میں سلفیت ایک گالی بن جائے۔
آہ تم سلفیت کے کتنے بدخواہ ہو۔
سلفی بزرگو۔۔۔ہاتھ پکڑو ان نادانوں کا۔۔۔یہ سلفیت کو ایک گندی چیز بنارہے ہیں۔۔۔
کیا ابن تیمیہ اور ابن قیم کی سلفیت کی جگہ اب بن سلمان اور بن زاید کی سلفیت کو رواج دیا جائے گا۔۔۔۔
میری اس دردمندانہ صدا پر کان دھر لو۔۔۔تمہیں سلف صالحین کا واسطہ دیتا ہوں۔۔
وسلام

Advertisements

Al-Biruni and his Contributions to Astronomy

astronomygeographymathematics 4. September 2015  1  Tabea Tietz

Illustration by Al-Biruni of different phases of the moon

Illustration by Al-Biruni of different phases of the moon

On September 4, 973, Muslim scholarAl-Biruni was born. He is regarded as one of the greatest scholars of the medievalIslamic era and was well versed in physics, mathematics, astronomy, and natural sciences, and also distinguished himself as a historian, chronologist and linguist. He is referred to as the founder of Indology for his remarkable description of early 11th-century India.

Abu Rayhan al-Biruni was born in Khwarazm now better known as Karakalpakstan. It is believed that Birunistarted his studies at early age under the famous astronomer and mathematicianAbu Nasr Mansur and he was probably engaged in his own scientific work starting from the age of 17. By 995, al-Biruni had written several short works including his Cartography, a work on map projections. Also, al-Biruni managed to describe his own projection of a hemisphere onto a plane. However, Abu Rayhan al-Biruni’s quiet life came to an end with the unrest in the Islamic world during the end of the 10th centuryand beginning of the 11th century. Due to several civil wars, al-Biruni fled, but his exact destination is not clear to this day. He may have gone to Rayy, near today’s city of Tehran, but most likely lived in poverty at that time. Clear is however, that the astronomer al-Khujandi discussed his observations and methods with al-Biruni, who managed to point out several of al-Khujandi’s errors.

In the following years, al-Biruni probably traveled around often, and historiansmanaged to determine some dates and places through the astronomical events he described. He went back to his homeland probably around 1004 and its ruler Abu’s’l Abbas Ma’mun provided great supportfor al-Biruni’s scientific work. For instance, the scientist was able to build an instrument at Jurjaniyya to observe solar meridian transits and he made 15 such observations with the instrument between 7 June 1016 and 7 December 1016. Unfortunately for al-Biruni, the political events took its toll once more. Al-Birunihad to leave the region, probably as prisoners, after their ruler had been executed. It is assumed that he was supported to do some scientific work even though he suffered great hardships. In 1018, he was probably in Kabul for some timeand even though he had no access to any accurate instruments, the scientistmanaged to observe an eclipse of the sun. While being a prisoner of Mahmud, al-Biruni made an excursion to India and published his famous work ‘India, which covered many aspects of the countryincluding its religion and cast system, and science. Apparently, al-Biruni even studied the original studied Indian literature and translated a few texts into Arabic. With Mahmud’s death, his son Mas’ud turned out to treat al-Biruni better and he was now free to travel and to his research as he pleased to.

Another major work by al-Biruni is known as ‘Shadows’ which he is believed to have written in 1021 and e.g. contains work on the Arabic nomenclature of shade and shadows. The book turned out to be an important source for the history of mathematics, astronomy, and physics. The work also gived a decent overview of al-Biruni’s abilities and contributions to mathematics and astronomy, as he wrote about theoretical and practical arithmetic as well as the summation of series, combinatorial analysis, and much more.

At yovisto you can learn more about ‘An Even Shorter History of Nearly Everything‘ in a lecture by Bill Bryson at Gresham College.

امام حسن البناء کی شہادت

شہادت : 
28 دسمبر 1948ء میں نقراشی پاشا کو قتل کیا گیا اور حکومت اس قتل کا ذمہ دار اخوان المسلون ٹہراتے ہوئے انتقامی کارروائی کا منصوبہ بنایا ، حسن البنا کو آخر تک گرفتارنہی کیا گیا اور بالآخر 12 فروری 1949ء کی شب قاہرہ میں اس عظیم رہنما کو ایک سازش کے تحت رات کی تاریکی میں گولی مار کر شہید کردیا گیا۔ شہادت کے وقت ان کی عمر صرف 43 سال تھی۔

حسن البنا مرنے سے قبل اپنے قاتھ کی گاڑی کا نمبر نوٹ کرچکے تھے اور اپنے ساتہیوں کو بتیا تھا کہ قاتک کی گاڑی کا نمبر 9979 ہے ۔حسن البنا کے قتل کے مقدمے کی تفتیش میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ 9979نمبر پلیٹ کی گاڑی ’’ سی آئی دی ‘‘ جنرل ڈائیریکٹر محمود عبد المجید کی ہے جو وزارت داخلہ کے ما تحت ہیں ۔

جنازہ اور تدفین : 
حسن البنا کے والد اپنے بیٹے کے جنازہ اور تدفین کے بارے میں کہتے ہیں ’’ مجھے جب اپنے بیٹے کی موت کی اطلاعات دی گئی تو حکام نےمجھے نعش دینے کیلئے ایک شرط رکھی کہ میں اپنے بیٹے کی تدفین صبح کے وقت بغیر کسی کے موجودگی میں کردون ، اور اگر میں یہ شرط نہی مانتا تو وہ میرے بیٹے خود ہی دفن کرلینگے ۔ چنانچہ اپنے بیٹے کا آخری دیدار کرنے کیلئے میں نے حکام شرط مان لی ،اور فجر کے وقت بھاری پولیس نفری میں میرے لخت جگر کی نعش کو گھر کڑی نگرانی کا ساتھ لایا گیا ، میرے سواکسی کو اجازت نہی تھی کہ وہ نعش کے قریب جائے ، بیٹے کی غسل اور تکفین کے بعد مسئلہ یہ پیش آیا کہ میری ساتھ بیٹے کا جنازہ کون اٹھائیگا ، لہذا میں نے پاس کھڑے آفیسر سے درخواست کی کہ کچہ افراد کو میرے ساتھ جنازہ اٹھانے کی اجازت دی جائےکیوں کہ گھر پر میرے سوا کوئی دوسرا مرد موجود نہیں صرف خواتین ہیں ۔آفیسر نے میری گزارش کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جنازہ خواتین ہی اٹھائیں ۔

پس پھر جنازہ خواتین کی کاندہوں پر ہی نکالا اور قبرستان جانے والے راستے پر پولیس کی بھاری نفری متعین تھی جو کسی بھی شخص کو آگے نہی آنے دے رہے تھے ۔ جب جنازہ مسجد پھنچا تو مسجد بلکل خالی تھی کیوں کہ پولیس والوں پھلے سے ہی مسجد خالی کرادی تھی ، اور یوں میںنے خود اپنے بیٹے کی نماز جنازہ پڑہی اور پھر تدفین کی ۔گھر لوٹنے پر کسی بھی شخص کو اجازت نھی تھی کہ ہمارے گھر آکر افسوس کرے جو کوئی آنے کی کوشش کرتا حکام اسےگرفتار کرلیتے ‘‘

شہادت حق

ن پر فرض تھا۔پھر یہی شہادت تمام انبیاء کے بعد ان کی امتوں پر فرض ہوتی رہی۔ اور اب خاتم النبیین ﷺ کے بعد یہ فرض امت مسلمہ پر بحیثیت مجموعی اسی طرح عائد ہوتا ہے جس طرح حضور ﷺ پر آپ کی زندگی میں شخصی طور پر عائد تھا۔ اس گواہی کی اہمیت کا اندازہ اس سے کیجئے کہ نوعِ انسانی کے لئے اللہ تعالٰی نے بازپرس اور جزا و سزا کا جو قانون مقرر کیا ہے اس کی ساری بنیاد ہی اس گواہی پر ہے۔ اللہ تعالٰی حکیم و رحیم اور قائم بالقسط ہے، اس کی حکمت و رحمت اور اس کے انصاف سے یہ بعید ہے کہ لوگوں کو اس کی مرضی نہ معلوم ہو اور وہ انھیں اس بات پر پکڑے کہ وہ اس کی مرضی کے خلاف چلے۔ لوگ نہ جانتے ہوں کہ راہ راست کیا ہے اور وہ ان کی کج روی پر ان سے مواخذہ کرے۔لوگ اس سے بے خبر ہوں کہ ان سے کس چیز کی بازپرس ہونی ہے اور وہ ان جانی چیز کی ان سے باز پرس کرے۔اس لئے اللہ تعالٰی نے آفرینش کی ابتداء ہی ایک پیغمبر سے کی اور پھر وقتاً فوقتاً بے شمار پیغمبر بھیجے تاکہ وہ نوعِ انسانی کو خبردار کریں کہ تمہارے معاملے میں تمہارے خالق کی مرضی یہ ہے، تمہارے لئے دنیا میں زندگی بسر کرنے طریقہ یہ ہے ، یہ رویّہ ہے جس سے تم اپنے مالک کی رضا کو پہنچ سکتے ہو، یہ کام ہیں جو تم کو کرنے چاہیئیں اور یہ کام ہیں جن سے تم کو بچنا چاہیئے۔ اور یہ امور ہیں جن کی تم سے بازپرس کی جائے گی۔ یہ شہادت جو اللہ تعالٰی نے اپنے پیغمبروں سے دلوائی اس کی غرض قرآن مجید مین صاف صاف یہی بتائی گئی ہے کہ لوگوں کو اللہ پر یہ حجت قائم کرنے کا موقع باقی نہ رہے کہ ہم بے خبر تھے اور آپ ہمیں اس چیز پر پکڑتے ہیں جس سے ہم کو خبردار نہ کیا گیا تھا۔ رُسُلًا مُّبَشِّرِيۡنَ وَمُنۡذِرِيۡنَ لِئَلَّا يَكُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌ ۢ بَعۡدَ الرُّسُلِ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيۡزًا حَكِيۡمًا.. النسآء: ۱۶۵

یہ سارے رسول ﷺ خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجے گئے تھے تاکہ اُن کو مبعوث کر دینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلہ میں کوئی حجت نہ رہے اور اللہ بہرحال غالب رہنے والا اور حکیم و دانا ہے ۔

اس طرح خدا نے لوگوں کی حجّت اپنے اوپر سے اتار کر پیغمبروں پر ڈال دی۔ اور پیغمبر اس اہم ذمہ داری کے منصب پر کھڑے کردئے گئے کہ اگر وہ شہادت حق کا حق ٹھیک ٹھیک ادا کردیں تو لوگ اپنے اعمال پر خود بازپرس کے مستحق ہوں اور اگر ان کی طرف سے ادائے شہادت میں کوئی کوتاہی ہو تو لوگوں کی گمراہی و کج روی کا مواخذہ پیغمبروں سے کیا جائے۔ دوسرے الفاظ میں پیغمبروں کے منصب کی نزاکت یہ تھی کہ یا تو وہ حق کی شہادت ٹھیک ٹھیک ادا کرکے لوگوں پر حجّت قائم کریں ورنہ لوگوں کی حجّت الٹی ان پر قائم ہوئی جاتی تھی کہ خدا نے حقیقت کا جو علم آپ حضرات کو دیا تھا وہ آپ نے ہمیں نہ پہنچایا ، اور جو صحیح طریقِ زندگی اس نے آپ کو بتایا تھا وہ آپ نے ہمیں نہ بتایا۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام اپنے اوپر اس ذمہ داری کے بار کو شدّت کے ساتھ محسوس کرتے تھے اور اسی بنا پر انھوں نے اپنی طرف سے حق کی شہادت ادا کرنے اور لوگوں پر حجّت تمام کردینے کی جان توڑ کوششیں کیں۔ پھر انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ سے جن لوگوں نے حق کا علم اور ہدایت کا راستہ پایا وہ ایک امت بنائے گئے اور وہی منصب شہادت کی نازک ذمہ داری جس کا بار انبیاء پر ڈالا گیا تھا اب اس امّت کے حصے میں آئی اور انبیاء کے قائم مقام ہونے کی حیثیت سے اس کا یہ مقام قرار پایا کہ اگر یہ امت شہادت کا حق ادا کردے اور لوگ درست نہ ہوں تو یہ اجر پائے گی اور لوگ پکڑے جائیں گے۔ اور اگر یہ حق کی شہادت دینے میں کوتاہی کرے یا حق کے بجائے الٹی باطل کی شہادت دینے لگے تو لوگوں سے پہلے یہ پکڑی جائے گی۔اس سے خود اس کے اعمال کی باز پرس بھی ہوگی اور ان لوگوں کے اعمال کی بھی جو اس کے صحیح شہادت نہ دینے یا غلط شہادت دینے کی وجہ سے گمراہ ، مفسد اور غلط کار رہے۔

سید قطبؒ کی شہادت

شہادت:
تاریخ شاہد ہے کہ دور غلامی کے بدترین اثرات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ قوموں کو ماضی کے صفحات میں دفن کر کے تو اس دنیاسے ان کا وجود نابود کر دیتاہے۔لیکن امت مسلمہ تاریخ انسانی وہ محترم و متبرک گروہ ہے جس کی کوکھ دور غلامی میں بھی علمیت و قیادت کے بارآورثمرات سے سرسبزو شاداب رہی ہے۔سیدقطب شہیداس امت وسط کے وہ مایہ ناز سپوت ہیں جنہوں نے دورغلامی کے پروردہ استعمار کے سامنے سپرڈالنے کی نسبت شہادت کے اعلی ترین منصب کو پسند کیا۔سیدقطب شہیدمصر کے نامور ماہر تعلیم،مسلم دانشوراورعربی کے معروف شاعر تھے۔’اخوان الملمون‘سے وابستگی ان کیلئے جہاں باشعورمسلمان حلقوں میں تعارف کا باعث بنی وہاں امت مسلمہ کو ذہنی طور پردورغلامی سے نکالنے کیلئے انہوں نے قلم کے ہتھیارکو بھی استعمال کرنا شروع کر دیا۔مصر کے غلامی زدہ سامراج کوسیدقطب کی قلمی کاوشوں کے نتیجہ میں مسلمانوں کاباشعورہونا پسند نہ آیااوروقت کے طاغوت نے اس بطل حریت کو راہی ملک عدم کردیا۔انبیاکرام علیہم السلام کے بعدانسانی تاریخ میں یہ آسمان شاید پہلی مرتبہ دیکھ رہاتھا کہ ملزم کس شان سے نہ صرف اعتراف جرم کررہاہے بلکہ اپنے جرم کے حق میں مضبوط ترین دلائل بھی بیان کررہا ہے۔اسلام کے اس عظیم مفکر ، داعی او ر مفسر قرآن کو ان کی شہرہ آفاق کتاب معالم علی الطریق لکھنے پر مصری حکومت کے خلاف سازشیں کرنے کے بے بنیاد الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔چنانچہ پہلے سے طے شدہ منصوبہ کے مطابق سیدقطب شہید رحمۃ اللہ علیہ سمیت چھ اور اسلامیان مصرکو سزائے موت سنا دی گئی اور 25 اگست1966کو پھانسی دے دی گئی۔آپ نے پھانسی کے پھندے پر جھول کرابدی حیات جاوداں کے راستہ پر ہمیشہ کیلئے کامیاب و کامران ہو گئے

سید قطبؒ کی شہادت

شہادت:
تاریخ شاہد ہے کہ دور غلامی کے بدترین اثرات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ قوموں کو ماضی کے صفحات میں دفن کر کے تو اس دنیاسے ان کا وجود نابود کر دیتاہے۔لیکن امت مسلمہ تاریخ انسانی وہ محترم و متبرک گروہ ہے جس کی کوکھ دور غلامی میں بھی علمیت و قیادت کے بارآورثمرات سے سرسبزو شاداب رہی ہے۔سیدقطب شہیداس امت وسط کے وہ مایہ ناز سپوت ہیں جنہوں نے دورغلامی کے پروردہ استعمار کے سامنے سپرڈالنے کی نسبت شہادت کے اعلی ترین منصب کو پسند کیا۔سیدقطب شہیدمصر کے نامور ماہر تعلیم،مسلم دانشوراورعربی کے معروف شاعر تھے۔’اخوان الملمون‘سے وابستگی ان کیلئے جہاں باشعورمسلمان حلقوں میں تعارف کا باعث بنی وہاں امت مسلمہ کو ذہنی طور پردورغلامی سے نکالنے کیلئے انہوں نے قلم کے ہتھیارکو بھی استعمال کرنا شروع کر دیا۔مصر کے غلامی زدہ سامراج کوسیدقطب کی قلمی کاوشوں کے نتیجہ میں مسلمانوں کاباشعورہونا پسند نہ آیااوروقت کے طاغوت نے اس بطل حریت کو راہی ملک عدم کردیا۔انبیاکرام علیہم السلام کے بعدانسانی تاریخ میں یہ آسمان شاید پہلی مرتبہ دیکھ رہاتھا کہ ملزم کس شان سے نہ صرف اعتراف جرم کررہاہے بلکہ اپنے جرم کے حق میں مضبوط ترین دلائل بھی بیان کررہا ہے۔اسلام کے اس عظیم مفکر ، داعی او ر مفسر قرآن کو ان کی شہرہ آفاق کتاب معالم علی الطریق لکھنے پر مصری حکومت کے خلاف سازشیں کرنے کے بے بنیاد الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔چنانچہ پہلے سے طے شدہ منصوبہ کے مطابق سیدقطب شہید رحمۃ اللہ علیہ سمیت چھ اور اسلامیان مصرکو سزائے موت سنا دی گئی اور 25 اگست1966کو پھانسی دے دی گئی۔آپ نے پھانسی کے پھندے پر جھول کرابدی حیات جاوداں کے راستہ پر ہمیشہ کیلئے کامیاب و کامران ہو گئے۔۔

علامہ یوسف القرضاوی:ایک عظیم مجدد، مجتہداورمفکر

عبد العزیز

 عبد العزیز2 سال ago

ترتیب: عبدالعزیز

علامہ یوسف القرضاوی کا نام محتاج تعارف نہیں ہے،آپ کا وطنی تعلق مصر سے ہے لیکن گزشتہ چار دہائی سے آپ قطر میں قیام پذیر ہیں ،ایک سوسے زائد معرکۃ الآراء کتابوں کے مصنف ہیں ،اکثر کتابوں کے ترجمے دنیا کی مختلف زبانوں میں شائع ہوچکے ہیں ، دروس وخطابات کی ویڈیو اور سی ڈیز کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ بتائی جاتی ہے،ٹوئٹر اور فیس بک پر آپ کے چاہنے والے لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں ، الجزیزہ چینل پر دنیا بھر میں چھ کروڑسے زائد لوگ آپ کو سنتے ہیں ،آپ کے معتقدین ومحبین کا ایک بڑا حلقہ ہے جو عرب ممالک سے لے کر یورپ ،امریکہ اور بر صغیر تک پھیلا ہوا ہے ، آپ کو دنیا بھر میں مجتہد،مجدد اور مفکر کی حیثیت سے جاناجاتاہے،مجموعی طور پر اس وقت عالم اسلام میں سب سے بڑے اسلامی اسکالر ،فقیہ اور عالم دین کی حیثیت آپ کو حاصل ہے، گزشتہ 5 جون کو سعودی عرب،متحدہ عرب امارات،بحرین اور مصرکی جانب سے قطر کا سفارتی بائیکاٹ کئے جانے کے بعد مذکورہ ممالک نے دہشت گردوں کی ایک فہرست جاری کی ہے جس میں 59 نمایاں شخصیات اور بارہ خیراتی ادارے کا نام شامل ہے ،جنہیں دہشت گردقراردیاگیاہے ان میں علامہ یوسف القرضاوی کا نام سرفہرست ہے۔

علامہ یوسف القرضاوی عالم اسلام کے ممتاز ترین عالم دین،نامور فقیہ اور عظیم مفکر ومجدد ہیں ، 9 ستمبر 1926ء کو مصر میں آپ کی پیدائش ہوئی،دوسال کی عمر ہوئی تو والد محترم کا انتقا ل ہوگیا،اس کے بعد آپ نے اپنے چچا کے ہاں پرورش پائی۔ خاندان والے انہیں دکاندار یا بڑھئی بننے کو کہتے تھے۔تاہم وہ اس دوران میں قرآن مجید حفظ کرتے رہے۔ نو برس کی عمر میں حفظ مکمل کرلیا،اس کے بعدانہوں نے ’’جامعہ ازہر‘‘قاہرہ، مصر میں تعلیم حاصل کی اور علوم اسلامی میں خصوصی مہارت حاصل ہوگئی۔

 علامہ قرضاوی کے پا س تین بیٹے ہیں اور چار بیٹیاں ہیں ،تین اولاد نے برطانیہ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کیا ہے جبکہ ان کی ایک بیٹی الہام القرضاوی عالمی سطح پر نیوکلیئر سائنس داں کی حیثیت سے جانی جاتی ہیں ،شیخ القرضاوی کے والدعبد الرحمن یوسف القرضاوی شاعر اور سیاسی رہنما تھے۔

  یوسف القرضاوی اخوان المسلمون کے بانی امام حسن البنا کے عقیدت مند تھے، ان کا یہ تعلق جوانی میں بھی برقرار رہا، اخوان المسلمون کے ساتھ تعلق کی بنیاد پر انہیں پہلی بار 1949 میں جیل بھی جانا پڑا، ان کی بعض تصانیف نے مصری حکومت کو مشتعل کر دیا؛ چنانچہ ان کے قید و بند کا سلسلہ جاری رہااور تقریباً تین مرتبہ جمال عبد الناصر کی حکومت میں انہیں جیل جانا پڑا اس دوران آپ مصرکی وزارت برائے مذہبی امور میں کام کرتے رہے،1961ء میں آپ نے مصر کو الوداع کہہ کر قطر کارخ کیا جہاں مختلف یونیورسٹیوں میں تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ اسی طرح وہ الجزائر کی یونیورسٹیوں میں مختلف ذمہ داریاں ادا کرتے رہے، 2011ء میں جب مصرمیں حسنی مبارک کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو آپ نے 1981ء کے بعد پہلی مرتبہ اپنے دیارمصر میں قدم رکھا اور پہلی مرتبہ عوامی سطح پر مصر میں آپ نے ایک مجمع عام سے خطاب کیا جس میں تقریباً پچیس لاکھ عوام تھے ،جمعہ کی نماز بھی آپ نے پڑھائی، حسنی مبارک کے خلاف احتجاج کا خیر مقدم کیا۔

  ایک طویل عرصہ تک آپ اخوان المسلمون میں سرگرم رہے۔ اخوانی قیادت نے مختلف مناصب کی پیشکش کی لیکن انہوں نے انہیں قبول نہیں کیا، یوسف القرضاوی یوپین کونسل برائے فتاویٰ اینڈ ریسرچ کے سربراہ ہیں ۔انٹر نیشنل علماء یونین کونسل کے چیئرمین ہیں، انہیں عرب دنیا میں غیر معمولی مقبولیت حاصل ہے۔وہ اسلام آن لائن ڈاٹ نٹ پر بھی لوگوں کے سوالات کے جوابات اور فتاویٰ جاری کرتے ہیں ، رابطہ عالمی اسلامی اور مجمع القہ الاسلامی کے بھی آپ خصوصی رکن اور ذمہ دار تھے،جامعہ ازہر مصر کی بھی رکنیت حاصل تھی جہاں سے اب آپ کو معطل کردیاگیاہے، مسلمانوں کی اکثرت آپ کو معتدل قدامت پسنداور جدید حالات سے ہم آہنگ عالم قرار دیتی ہے،آپ عصر حاضر کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں ، بعض لوگ انہیں سخت گیر اسلام پسند قرار دیتے ہیں ، انٹر نیشنل چینل الجزیرہ پر آپ کا پروگرام الشریعۃ والحیاۃ بہت مقبول ہے اور تقریباً 60 ملین سے زائد لوگ اسے دیکھتے ہیں ۔ یہودی ونصاریٰ کو آپ مستقل دشمن تصور کرتے ہیں ، آپ کانظریہ ہے ان سے دوستی مسلمانوں کے حق میں بہتر نہیں ہے، آپ کا شروع سے یہ نظریہ رہاہے کہ مسلمان دوسروں کو مداخلت کا موقع دینے کے بجائے اپنے مسائل خود حل کریں ۔

  یوسف القرضاوی فلسطینیوں کے اسرائیلیوں پر حملوں کے زبردست حامی ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ اسرائیلی فوجیوں کے خلاف خودکش دھماکے جائز ہیں کیونکہ وہ قابض اور غاصب ہیں وہ انہیں اجتہادی حملے قرار دیتے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ خود کش حملے صرف اس وقت جائز ہوں گے جب اپنے دفاع کا کوئی دوسرا راستہ نہ بچے، ان کے بارے میں یک تاثر یہ ہے کہ وہ عام اسرائیلی شہریوں کے خلاف حملوں کے بھی حق میں ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیلی شہری جو فوج خدمات بھی سرانجام دیتے ہیں ، عام شہری کی تعریف میں نہیں آئیں گے ، شیخ یوسف کے اس موقف کی بنا پر ایک طبقہ انہیں دہشت گردی کا حامل قرار دیتا ہے،تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ سعودی عرب نے بھی انہیں دہشت گرداسی وجہ سے قراردیاہے کہ وہ اسرائیلیوں پر فلسطینیوں کے حملہ کو درست ٹھہراتے ہیں اور اسرائیل کے خلاف نظریہ رکھتے ہیں ، تاہم شیخ القرضاوی کا کہنا ہے کہ اس قسم کے حملے صرف اسرائیلی اہداف کے خلاف جائز ہیں ۔ اس ک علاوہ کہیں بھی ان کی اجازت نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ 20 مارچ 2005ء کو دوحہ ، قطر میں کار بم دھماکا ہوا تو انہوں نے اس کی شدید مذمت کی تھی۔ اس واقعے میں ایک برطانوی شہری جان ایڈمز مارا گیا تھا۔ شیخ کا کہنا تھا کہ اس قسم کے واقعات ایسے لوگ کرتے ہیں جو اسلامی تعلیمات سے ناواقف ہیں ۔ ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔ وہ دشمنوں کے ہاتھوں کھیل رہے ہوتے ہیں ۔

 وہ مسلمانوں کیلئے حزب اللہ جیسے دہشت گرد گروہ کی حمایت جائز نہیں کیونکہ یہ شیعہ ہیں ۔ تاہم شیخ یوسف القرضاوی نے کہا کہ مسلمانوں پر اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کی مدد لازم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شیعہ اور سنی اسلام کے بنیادی اصولوں پر متفق ہیں ۔ اختلاف صرف فروعی مسائل پر ہیں ۔ اسی طرح انہوں نے عراق کے سنیوں اور شیعوں سے بھی درخواست کی تھی کہ وہ خانہ جنگی ختم کریں ، شام پر روس کے حملہ کے بھی آپ شدید مخالف ہیں اور روس کے اس اقدام کو آپ دہشت گردانہ حملہ مانتے ہیں ۔

 14 اپریل 2004ء کو اسلام آن لائن پر ایک فتویٰ جاری کیا کہ تمام مسلمان امریکی اور اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں کیونکہ وہ ان مصنوعات کے بدلے حاصل ہونے والی رقم سے معصوم فلسطینی بچوں کے جسم چھلنی کرنے کیلئے گولیاں اور دیگر اسلحہ خریدتے ہیں ۔ اسرائیلیوں کی مصنوعات خریدنا دشمن کی وحشت و جارحیت میں مدد کرنے کے مترادف ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم دشمنوں کو کمزور کریں ۔ اگر ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے سے وہ کمزور ہوتے ہیں تو ہمیں ایسا کرنا چاہئے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ دوسرا اسرائیل بن چکا ہے۔ امریکہ اسرائیل کو رقم ، اسلحہ سمیت سب کچھ فراہم کر رہا ہے تاکہ فلسطینیوں کو نیست و نابود کر دے۔

 شیخ یوسف القرضاوی کا کہنا ہے کہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو گرین وِچ ٹائم کے بجائے مکہ مکرمہ کے ٹائم کو مدنظر رکھنا چاہئے۔ وہ تصویر کشی کو جائز قرار دیتے ہیں ۔ وہ عالم اسلام میں جمہوریت کے قیام کے حامی ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں سیاسی اصطلاحات کی شدید ضرورت ہے۔ ڈنمارک کے ایک کارٹونسٹ نے پیغمبر اسلام کے حوالے سے توہین آمیز کارٹون بنائے تو شیخ قرضاوی نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کے جواب میں تشدد کرنا جائز نہیں ۔ نائن الیون کے واقعہ کی خبر سنتے ہیں شیخ قرضاوی نے تمام مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ زخمیوں کیلئے خون کے عطیات دیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام صبر و تحمل کا دین ہے۔ وہ انسانی جان کی حفاظت پر زور دیتا ہے۔ معصوم انسانوں پر حملے گناہ عظیم ہے۔

 شیخ قرضاوی کا کہنا ہے کہ عراق میں جانے والے سارے امریکی ’’حملہ آور‘‘ سمجھیں جائیں گے، ان کے درمیان فوجی یا سیویلین کی کوئی تفریق نہیں ، اس لئے ان کے خلاف جہاد فرض ہے تاکہ عراق سے انخلا پر مجبور ہو جائیں ، ان کے اس بیان پر بہت ہنگامہ ہوا،عالمی سطح پر مذمت کی گئی اور مجبور ہوکر انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میں جہاد یعنی ’’جدوجہد‘‘ کا لفظ استعمال کررہا ہوں ’’قتل ‘‘ کا نہیں ۔

  امریکہ میں 1999ء میں سے آپ کے داخلہ پر پابندی عائد ہے ،2008ء سے برطانیہ نے بھی آپ کے جانے پر پابندی لگارکھی ہے قبل ازیں 2004ء میں آپ نے برطانیہ کا دورہ کیاتھا ،اس کے علاوہ بھی مغرب کے کچھ ممالک نے آپ پر بابندی لگارکھی ہے۔

اسلام کی نشرواشاعت اور دینی علوم کی خدمت کی بنیاد پر آپ کو دسیوں اعلیٰ ترین ایوارڈ مل چکے ہیں جن میں سعودی عرب کا شاہ فیصل عالمی ایوارڈ ،دبئی انٹرنیشنل ہولی قرآن ایوارڈ ،سلطان حسن البلکیہ ایوارڈ سرفہرست ہیں ،یہاں یہ بات بھی قابل ذکرہیں کہ ایک طویل عرصے تک آپ سعودی عر ب اور آل سعودی کے یہاں بہت اہمیت کے حامل تھے ،ان دنوں ایک تصویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں سابق سعودی فرماں رواشاہ عبد اللہ مرحوم انتہائی عقیدت کے ساتھ علامہ یوسف القرضاوی سے ملاقات کررہے ہیں ،بتایا جاتاہے کہ سعودی حکومت نے علامہ یوسف القرضاوی کو کئی اہم عہدوں کی پیشکش بھی کی تھی لیکن انہوں نے قبول کرنے سے انکا رکردیاتھا۔

   اخیر میں علامہ یوسف القرضاوی کا وہ بیان بھی ملاحظہ فرمالیں جو انہوں نے قطر پر پابندی اور دہشت گرد نامزد کئے جانے کے بعد دیا ہے ۔

’’بحمد اللہ میں قطر میں ہوں اور پہلے سی بلند ہمتی عزم و استقلال اور سازشوں سے ماورا جی رہا ہوں کوئی شخص مجھ پر منافقت کا داغ نہیں لگا سکتا! اگر میں منافقت کرتا، سلاطین کا دم چھلا بنتا اور کاسہ لیسی میرا وطیرہ ہوتا تو عیش و عشرت سے طبعی موت تک جیتا اور تھوڑی بہت کوشش کے بعد وہ بڑے بڑے مناصب پاتا جن کی مجھے بارہا پیش کش کی جا چکی ہے لیکن میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے اپنے دین اور اصل بنیاد کی پیروی کرنی ہے اور اپنے ٹھوس موقف پر جینا ہے۔ اگر ممکن ہے تو میرے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال لو میری آواز روکنے کے سارے حربے کر لو، میری گردن پر چھری رکھ لو، میرے ایمان و استقلال میں ذرا بھی فرق نہ دیکھو گے۔ سچائی کی روشنی میرے دل میں ہے، میرا دل میرے رب کے قبضہ میں ہے، اور میرا رب ہی میرا مددگار اور استقلال بخشنے والا ہے، میں اپنے دین، عقیدے اور سچائی کے راستے پر ہی چلوں گا اور اسی پر اپنی زندگی ہنستے مسکراتے وار دوں گا۔یہی میں ظالموں سے کہتا ہوں اور ابھی تک میں اپنے اسی موقف پر قائم ہوں ، میں اپنے دین کو مطعون نہیں کر سکتا ‘‘۔

ہم سے نہ الجھو

١٩٩٠ ء میں حکومت ہند نے جماعت اسلامی جموں وکشمیر پر پابندی عائد کرتے ہی اس کے قائد ین اور سینکڑوں کارکنوں کو پانند سلاسل کرادیا اور جماعت کا دعوتی پروگرام بہت زیادہ متاثر ہوا اور اس طرح جماعت کی سرگرمیاں عملاً بند ہو گئیں۔ مگر ادھر ڈوبے ادھر نکلے کے مصداق جماعت کے قائدین نے جیلوں میں درس و تدریس کا کام بڑے شدومد سے جاری کیا اور ہزاروں نوجوانوں کو ناظرہ قرآن کے علاوہ ترجمہ و تفسیر پڑھائی۔ اس کے علاوہ ان پڑھ نوجوانوں کو لکھنے پڑھانے کا سلسلہ بھی شروع کیا اور اس طرح کئی نوجوان اردو زبان میں لکھنے پڑھنے کے قابل ہوگۓ
(ایڈوکیٹ زاہد علی)
غم نہ کرو ہم ہی غالب آنے والے ہے اگر تم مومن ہو۔ القرآن
اس ظلم کو سب نے دیکھ لیا جو تم نے سر بازار کیا
اس جور کو دنیا کیا جانے جو تم نے پس دیوار کیا
نعیم صدیقی رح

آزادی کی نیلم پری

شاہد محی الدین۔۔۔۔ وانپورہ کولگام

 دورِ  جاہلیت میں انسان درندوں سے بھی پست تر سفلی زندگی گزارتے تھے ۔انسانیت نام کی چیز خواب وخیال تھی۔اس گھور اندھیرمیں عورت سب سے زیادہ محکوم و مجبور تھی،اسے جنسی تسکین کا سامان سمجھا جاتا تھا، اس کے صنفی حقوق سلب اور شخصی آزادیاں مفقود تھیں، لوگ بیٹی پیدا ہونے کو اپنے لیے ذلت و رسوائی تصور کرتے تھے۔ چنانچہ سورہ نحل میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :جب ان میں کسی کو بیٹی پیدا ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کے چہرے پرکلونس چھا جاتی ہے اور وہ بس خون کا سا گونٹ پی کر رہ جاتا ہے، لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے کہ اس بری خبر کے بعد کیا کسی کو منہ دکھائے سوچتا ہے کہ ذلت کے ساتھ بیٹی کو لئے رہے یا مٹی میں دبا دے دیکھو کیسے حکم ہیں جو یہ خدا کے بارے میں لگا تے ہیں‘‘ تاریکی کےاس دور کو اسلام کی روشنی سے بدلتے ہوئے زندگی کی کایا پلٹ ہونے کے ساتھ ساتھ عورت کو اپنا مقام ومرتبہ ملا کہ  کسی مذہب یا ازم میں بنت حوا کو یہ درجہ ٔعالیہ حاصل ہی نہیں ۔ نبئ رحمت ﷺ نےجہاں بیٹی کو گھر کی رحمت کا لقب دیا ، وہیں اولاد کو ماں کے قدموں تلے جنت کی نوید سنائی ۔ اسلام میں عورت کی عزت وتکریم کا اندازہ اس بات لگایا جا سکتا ہے کہ جب بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنے گھر تشریف لاتیں تو رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم بہ نفس نفیس ان کےا ستقبال کے لئے اُٹھ کھڑے ہو جاتے اور اپنی دختر ذی وقار کا دست مبارک پکڑ کر اپنی نشست گاہ کے قریب بٹھاتے۔اسلام کی آغوش میں آنے کےبعد بنتِ حوا کارگہہ ٔ زندگی میں عظیم المرتبت مقام پر فائز ہوئی ۔ ا س بارے میںمولانا مودودی اپنی شاہکار کتاب ’’پردہ‘‘ میں رقم طراز ہیں:  یہ وہ حالات تھے کہ مکہ کے پہاڑوں کی پر نور کرنیں پورے جاہ و جلال کے ساتھ نمودار ہوتی ہیں اور نہ صرف قانونی اور عملی حیثیت سے بلکہ ذہنی حیثیت سے بھی اسلام ایک عظیم انقلاب  برپا کر دیتا ہے ۔اسلام ہی نے مرد اور عورت دونوں کو بدلا ہے ۔ عورت کی عزت اور اس کے حق کا تخیل ہی انسان کے دماغ اسلام کا پیدا کیا ہوا ہے۔آج حقوق نسواں، تعلیم نسواں اور بیدارئ اناث کے جو بلند بانگ نعرے پردئہ سماعت سے ٹکرا رہے ہیں، ‘یہ اسی انقلاب انگیز صدا کی بازگشت ہے جو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے بلند ہوئی اور جس نے افکار انسانی کے رُخ کا دھارا پھیر دیا ‘ ، آپؐ ہی ہیں جنہوں نے دنیا کو بتایا کہ عورت بھی ویسی ہی انسان ہے جیسا مرد‘‘(پردہ ۱۸۹)نام نہاد حقوق نسواں کے مغرب زدہ علمبردار آج کل مسلم خواتین کے پردے اور دیگر نسوانی احکامات پر اُنگلیاں اٹھاتے ہیں ،یہ لوگ بنت حوا کو ’’آزادی کی نیلم پری‘‘ کا نام دے کر بازاری اشتہاروںاور جنسی ہیجان بڑھانےو الے رسائل کی زینت بناتے ہیں اور اس چیز کو’’ آزادئ نسواں‘‘ اور ’’مساوات مردوزن‘‘ کا الٹانام دیتے ہیںلیکن اصل میں یہ عورت کے لئے زنجیروں اور سلاخوں کے پیچھے والے غلامی سے بھی بد تر غلامی ہے ۔اسلام نے کو عظمت خواتین کودی ہے ، اس پر انگلی اٹھانے والے خود اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں کہیں وہ آسمان کو تھوک تو نہیں رہےہیں ۔آیئے ہم ایک نظر ان ممالک پر ڈالیں جو نام نہاد حقوق نسواں اور آزادیٔ نسواں کے علمبردار بنے پھرتے ہیں مگر آیا یہ لوگ ان کی عزت وعصمت کو بچا پائے ہیں۔ ۲۰۰۷ کو بی بی سی نے ایک رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا کہ برطانیہ میں ہر سال ۸۵۰۰۰ ؍عورتیں زنا بالجبر کا شکار ہوتی ہیں۔۲۰۰۹ میں این سی سی پی کی ایک رپورٹ کے مطابق ۱۸ ؍ برس سے کم عمر کی ۲۵۰۰۰۰ لڑکیاں، جب کہ سولہ سے انسٹھ برس کے درمیان کی ۴۰۰۰۰۰ ؍خواتین ہر برس مردوں کی ہوس رانی کا جبری شکار ہوتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں زیر بحث ممالک میں جنسی جرائم گمبھیر روپ اختیار کرچکے ہیں ۔ایک رپورٹ کے مطابق اس سال جو بھی جنسی زیادتیوں سے متاثر ہوئے ان میں سے ۸۵فی صداپنا مقدمہ پولیس میں درج ہی نہ کراسکیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آج کی مہیلایاعورت محکومیت و مظلومیت کے کس درجہ پر کھڑی ہے۔  اس مدت کے دوران ۲۰۰۳ ئ تک۵۰۰۰۰ ؍خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات پیش آئے جن میں صرف ۱۱۸۶۷ ا؍پنا مقدمہ درج کروا سکیں ۔ حد یہ کہ صرف ۶۲۹ ؍کو سزا ہوئی۔ امریکہ میں اس وقت خواتین کے خلاف وحشت ناک مظالم کی شرح برطانیہ سے بھی ۲۰ فیصد زیادہ بتائے جاتے ہیں۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے شعبہ انصاف کی رپورٹ کے مطابق ۲۰۱۰ میں۵۵۶۰۰۰ جنسی جارحیت کے دردناک واقعات پیش آئے جب کہ ۱۹۹۵ میں اس کی تعداد ۲۷۰۰۰۰تھی۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے ان جرائم کی شرح کتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ۲۰۰۵ میں صرف ۱۹۱۶۷۰ ریپ کے مقدمات کا اندراج ہوا، ۲۰۰۵-۲۰۱۰ کے درمیانی عرصے میں صرف ۳۶ فی صدجنسی جرائم کے مقدمات کو درج کیا گیا اور ۶۴فی صد نے ان مقدمات پر عدالتی کاروائی نہ کرنے کے نتیجے پر اپنی متعلقہ اداروں میں رپورٹ درج کرنے سے اجتناب کیا ۔ ان حقائق کو تجزیے کی بنیاد بناکرخود ہی بتایئے کیا بنت حواکو ’’آزادی ‘‘ کی آڑ میں اس کے اصل حقوق شب خون مارا گیا کہ نہیں۔ اسی کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر روز امریکہ میں ۴۵سیکنڈ بعد زندہ بالجبر کا ایک واقعہ پیش آتا ہے۔گویا عصر حاضر عصرمیں حواکی بیٹی کی حالت زمانہ ٔ جاہلیت سے بھی بدتر ہے ۔دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے بھارت میں آئے روز عورتوں پر جنسی زیادتیوں کے واقعات بلا ناغہ رونما ہوتے رہتے ہیں۔ ا س وشال دیس میں جہاںایک عورت کو دیوی کہہ کر  اسےپوجا جاتا ہے ،وہاں دوسری طرف ا س کے اردگرد بھیڑئے دیکھے جاتے ہیں جو اس کی عصمت وعزت کو نوچ دالتے ہیں ۔ بنابریں انڈیا میں وحشت ناک جنسی زیادتیوں کی شرح روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق جنسی زیادتیوں،اغواءکاریوں، خواتین پر گھریلو تشدد، شوہر کے مظالم کے حوالے سے۳ لاکھ ۷۰ ہزار سے زائد شکایتیں متعلقہ ادراوں میں درج کروائی گئیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق سال ۲۰۱۴ میں ۳۳۷۰۷ جنسی جرائم کے مقدمات درج ہوئے ۔ اپنے تو اپنےاس دھرتی پر غیر ملکی خواتین سیاح بھی محفوظ نہیں ۔دنیا بھر میں آج بھی حقوق نسواں اور آزادی نسواں کا اصل علمبردار اسلام ہے ۔ دین حق ایک مکمل ضابطہ حیات ہونے کے ناطے نہ صرف مرد کو بلکہ عورت کو بھی ہر حال میںعدل و انصاف فراہم کرتا ہے۔باطل افکار و نظریات میں عورت کو آزادئ نسواں کے نام پر استحصالی فریب دیا جاتا ہے لیکن دین اسلام میں عورت کو گھر کی شہزادی اور خاندان کی ملکہ کا درجہ دے کر اسے سماج میں ہر گند اور غلاظت سے پاک رکھنے کا پوار اہتمام کیا گیا ہے ۔یہی آزادئ نسواں اور حقوق ِنسواں کا دیباچہ ہے۔اس حوالے سے مولانا اشرف علی تھانوی کیا خوب لکھتے ہیں :’’ریل میں انسان اپنے پیسوں کو ظاہر نہیں کرتا بلکہ اندر کی بھی اندر والی جیب میں رکھتا ہے، اسی طرح عورت کو پردہ میں رکھنا کہ چاہئے اور غیرت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ انسان پردہ میں رہے۔ 

اے دوست تجھ کو رحم نہ آئے تو کیا کروں دشمن بھی میرے حال پہ اب آب دیدہ ہے

وادی کشمیر براعظم ایشیا کی وہ واحد خطا ہے جہاں لوگ پچھلے ۷ دہائیوں سے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں ۔۔ماؤں اور بہنوں کے جنازے روز اپنے کندھوں پر اٹھانے پڑھتے ہیں دنیا خاموش تماشائیوں کی طرح اپنے آپ کو پیش کر رہے ہیں

Create your website at WordPress.com
Get started